Britanyl Syrup Uses استعمالات اور فوائد (Urdu)

برائٹنل سیرپ دمہ اور سانس کی نالی کے مسائل میں سانس لینے میں آسانی پیدا کرنے اور سانس کی گھٹن کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

Britanyl Syrup کے استعمالات، فوائد اور معلومات

Britanyl Syrup کے استعمالات:

  • دمہ میں آرام
  • سانس کی گھٹن کم کرنا
  • برونکائٹس کا علاج
  • ایمفیسیما میں مدد
  • سینے کی جکڑن کم کرنا
  • سانس کی نالی کھولنا
  • گھرگھراہٹ کم کرنا
  • سانس لینے میں آسانی

Britanyl Syrup کیسے کام کرتا ہے؟

برائٹنل سیرپ میں موجود ٹربیوٹالائن سلفیٹ سانس کی نالی کے پٹھوں کو ڈھیلا کرتا ہے، جس سے ہوا کی نالیاں کھل جاتی ہیں اور سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس طرح دمہ، برونکائٹس اور دیگر سانس کی بیماریوں کی علامات میں آرام ملتا ہے۔

Britanyl Syrup کے مضر اثرات

  • ہاتھوں کا کپکپانا
  • چکر آنا
  • سر درد
  • گھبراہٹ
  • دل کی دھڑکن تیز ہونا
  • بے چینی

Britanyl Syrup کی خوراک

مریضخوراک
بچےبرائٹنل سیرپ وزن اور عمر کے مطابق، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق
بالغ افرادبرائٹنل سیرپ 5ml سے 10ml دن میں 3 بار
بزرگ مریضبرائٹنل سیرپ ڈاکٹر کی نگرانی میں استعمال کریں

Britanyl Syrup کی احتیاطی تدابیر

  • دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر یا ذیابیطس کے مریض ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔
  • خون میں پوٹاشیم کی سطح کم ہو سکتی ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
  • مقررہ خوراک سے زیادہ استعمال نہ کریں۔
  • اگر دل کی دھڑکن بہت تیز ہو جائے تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
  • حاملہ خواتین صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر استعمال کریں۔

Britanyl Syrup کی قیمت

پاکستان میں برائٹنل سیرپ کی قیمت تقریباً:

  • 60ml یا 120ml بوتل: 75 سے 130 روپے

Britanyl Syrup دمہ میں کیسے فائدہ مند ہے؟

یہ سانس کی نالی کو کھول کر سانس لینے میں آسانی پیدا کرتی ہے اور گھرگھراہٹ و سینے کی جکڑن کو کم کرتی ہے۔

کیا Britanyl Syrup روزانہ استعمال کی جا سکتی ہے؟

ہاں، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق روزانہ استعمال کی جا سکتی ہے۔

Britanyl Syrup کے مضر اثرات کب ظاہر ہوتے ہیں؟

استعمال کے بعد بعض افراد میں ہاتھوں کا کپکپانا، چکر آنا یا دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے۔

Britanyl Syrup حاملہ خواتین کے لیے محفوظ ہے؟

حمل کے دوران برائٹنل سیرپ صرف ڈاکٹر کی ہدایت اور نگرانی میں استعمال کرنی چاہیے۔

Britanyl Syrup کے ساتھ کون سی چیزیں استعمال نہ کریں؟

دیگر سانس کی ادویات یا دل کی دوائیں بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے ایک ساتھ استعمال نہ کریں۔

You May Also Like